Dialogue - Urdu

Hide

Vocabulary

Hide
چمکدار سیرامک chamakdar ceramic faience
آرائش aaraish décor
زیبائش zebaish adorn
چبوترہ chabutrah plinth
مثال misal exemplar
بے نظیر baynazir nonpareil
ماہر mahir expert
عطا کرنا ata kerna to bestow
تقریباً taqreeban circa
برقرار رکھنا barqarar rakhna perpetuate

Lesson Notes

Hide

Cultural Insights

وزیر خان مسجد در اصل صوفی بزرگ میراں بادشاہ کے مزار کے اطراف بنائی گئی تھی، جو کہ اس وقت مسجد کے صحن میں واقع ہے۔یہ مسجد اب لاہور کی جمعہ مسجد ہے، کیونکہ اس مسجد نے اپنی وسعت کی بنا پر مریم زمانی بیگم مسجد کی جگہ لے لی ہے۔مریم زمانی بیگم مسجد میں نماز ادا کرنے کے ہال نے وزیر خان مسجد کے اندر کے نماز ادا کرنے کے ہال کے لئے نمونہ کا کام کیا تھا۔یہ ہال بڑے ستونوں اور محرابوں والے حجروں پر مشتمل ہے۔پانچ حصوں میں سے ہر ایک کا ایک گنبد موجود ہے

The Wazir Khan Mosque was originally built to surround Sufi saint Miran Badsha's tomb, which now is in the mosque's courtyard. The mosque is now Lahore's Friday mosque, as it replaced the Mosque of Mariyam Zamani Begum in this capacity. The Mosque of Mariyam Zamani Begum's prayer chamber served as the model for the prayer chamber inside the Wazir Khan Mosque. The chamber is segmented into five cloisters by huge piers and arches. Each of the five sections has a dome.

Lesson Transcript

Hide
وزیر خان مسجد پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے لاہور شہر میں واقع ہے۔
یہ اس سڑک پر واقع ہے جو دہلی دروازہ کو لاہور قلعے سے ملاتی ہے۔
اس کی تعمیر میں سات سال لگے، جس کا آغاز تقریباً 1634- 1635سِنِّ عیسوی میں ہوا۔
اس کی تعمیر کے وقت مغل بادشاہ شاہ جہاں کی حکمرانی تھی۔
حکیم شیخ علیم الدین انصاری نے، جنہیں عمومی طور پر وزیر خان کے نام سے جانا جاتا تھا، اس مسجد کو تعمیر کروایا تھا۔
اس کو "وزیر خان" کا خطاب شاہ جہاں (اس وقت کے شہزادہ خرم ) نے عطا کیا تھا، جب اس نے لاہور میں صوبۂ پنجاب کے گورنر اور شاہ جہاں کے درباری حکیم کا عہدہ حاصل کیا تھا۔
اس مسجد کے علاوہ اس نے لاہور میں دیگر کئی عمارتیں تعمیر کروائی تھیں۔
یہ مسجد نقش و نگار پر مبنی ٹائلز کے لیے مشہور ہے،اور حقیقت میں بعض لوگ اس کو "لاہور کے رخسار پر ایک تل" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اس میں کچھ بے نظیر قسم کی کاشانی ٹائل کی کاریگری بھی شامل ہے جو کہ مغلیہ دور سے تعلق رکھتی ہے۔
اس مسجد کی خصوصیات میں ایک بغلی راستہ اور پانچ برآمدے شامل ہیں اور یہ اونچائی پر بنی ہوئی ہے۔
مشرقی جانب موجود دروازہ کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس دروازہ کی خصوصیت میں ایک اندرونی مثمنّی شکل والا حجرہ ہے۔
ٹائل کی کاریگری کے ساتھ ساتھ فریسکو مصوّری بھی دیواروں کی آرائش کا کام کرتی ہے، جو کہ کنکر چونے کی اینٹوں سے بنی ہوئی ہیں.
مغلیہ دارالحکومت کی اکثر مسجدوں کے برخلاف, وزیر خان مسجد کی زیبائش میں مقامی نقش و نگار بھی شامل ہیں۔
یہ مسجد لاہور کی میناروں والی پہلی مسجد ہے۔
یہ مسجد کئی ایک دکانوں اور مکانات سے گھری ہوئی ہے جو اس سے متصل گلیوں میں موجود ہیں۔
بازار اور وزیرخان کا قائم کردہ حمام خانہ بھی اس مسجد کے تحفظ کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔