Dialogue

Vocabulary

Learn New Words FAST with this Lesson’s Vocab Review List

Get this lesson’s key vocab, their translations and pronunciations. Sign up for your Free Lifetime Account Now and get 7 Days of Premium Access including this feature.

Or sign up using Facebook
Already a Member?

Lesson Notes

Unlock In-Depth Explanations & Exclusive Takeaways with Printable Lesson Notes

Unlock Lesson Notes and Transcripts for every single lesson. Sign Up for a Free Lifetime Account and Get 7 Days of Premium Access.

Or sign up using Facebook
Already a Member?

Lesson Transcript

لاہور قلعہ لاہور کے فصیل بند شہر کے اقبال پارک میں واقع ہے، جو کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہری پارکوں میں سے ایک ہے۔
اس قلعہ کا آغاز ہزاروں سال قبل دور قدیم میں ہوا، اور اس کی کئی مرتبہ تعمیر نو اور تجدید نو ہوئی ہے۔
موجودہ بنیاد کے ساتھ ہیئت کی تاریخ مغلیہ حکمران اکبر کے دورِ حکومت سن عیسوی 1556 اور 1605 کے درمیان سے ہے۔
اس بنیاد کو رکهنے کے بعد ، مغل، برطانوی اور سکھ رہنماؤں نے مسلسل اسے ترقی دی ہے۔
قلعہ کی جگہ پر موجود سب سے پہلا ڈھانچہ مٹی سے بنا تھا، اور مغل بادشاہ اور کشمیر، ملتان، اور کابل کے دوسرے قلعوں کے درمیان اس کی فوجی حکمت عملی کی حالت کی وجہ سے پرانے قلعہ کو مسمار کرنا پڑا اور اس علاقہ کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا۔
فارسی باغات کا اثر و رسوخ اس ڈھانچہ پر غالب ہے جس میں دو علاقے ہیں۔
ایک نوکرشاہی علاقہ ہے، جس کی خصوصیات میں باغات، شاہی سامعین کے لیے انعقاد والا علاقہ، اور اصل داخلہ شامل ہیں۔
دوسرا حصّہ ایک مزید نجی اور چھپا ہوا رہائشی حصّہ ہے۔
رہائشی حصّہ کا شمالی حصّہ عدالت نے حاصل کیا ہے، جہاں تک ہاتھی دروازہ کے ذریعہ رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
قلعہ کے رہاشی حصّہ میں کشادہ آرام گاہیں اور چھوٹے باغات ہیں۔
لاہور قلعہ کی بیرونی دیواروں کو نیلے پرشیئن ٹائلز سے سجایا گیا ہے۔
اصل دروازے سے مریم زمانی مسجد نظر آتی ہے، جبکہ بڑا عالمگیری دروازہ حضوری باغ سے بادشاہی مسجد تک جاتا ہے۔
مغل فن تعمیر کے ساتھ ساتھ، شہتیروں میں ہندو فن تعمیر کے اثرات بهی نظر آتے ہیں جو کہ ڈیزائن کے اعتبار سے حیوانی پیکر ہیں۔

1 Comment

Hide
Please to leave a comment.
😄 😞 😳 😁 😒 😎 😠 😆 😅 😜 😉 😭 😇 😴 😮 😈 ❤️️ 👍
Sorry, please keep your comment under 800 characters. Got a complicated question? Try asking your teacher using My Teacher Messenger.
Sorry, please keep your comment under 800 characters.

UrduPod101.com
Thursday at 6:30 pm
Your comment is awaiting moderation.

لاہور قلعہ لاہور کے فصیل بند شہر کے اقبال پارک میں واقع ہے، جو کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہری پارکوں میں سے ایک ہے۔
اس قلعہ کا آغاز ہزاروں سال قبل دور قدیم میں ہوا، اور اس کی کئی مرتبہ تعمیر نو اور تجدید نو ہوئی ہے۔
موجودہ بنیاد کے ساتھ ہیئت کی تاریخ مغلیہ حکمران اکبر کے دورِ حکومت سن عیسوی 1556 اور 1605 کے درمیان سے ہے۔
اس بنیاد کو رکهنے کے بعد ، مغل، برطانوی اور سکھ رہنماؤں نے مسلسل اسے ترقی دی ہے۔
قلعہ کی جگہ پر موجود سب سے پہلا ڈھانچہ مٹی سے بنا تھا، اور مغل بادشاہ اور کشمیر، ملتان، اور کابل کے دوسرے قلعوں کے درمیان اس کی فوجی حکمت عملی کی حالت کی وجہ سے پرانے قلعہ کو مسمار کرنا پڑا اور اس علاقہ کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا۔
فارسی باغات کا اثر و رسوخ اس ڈھانچہ پر غالب ہے جس میں دو علاقے ہیں۔
ایک نوکرشاہی علاقہ ہے، جس کی خصوصیات میں باغات، شاہی سامعین کے لیے انعقاد والا علاقہ، اور اصل داخلہ شامل ہیں۔
دوسرا حصّہ ایک مزید نجی اور چھپا ہوا رہائشی حصّہ ہے۔
رہائشی حصّہ کا شمالی حصّہ عدالت نے حاصل کیا ہے، جہاں تک ہاتھی دروازہ کے ذریعہ رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
قلعہ کے رہاشی حصّہ میں کشادہ آرام گاہیں اور چھوٹے باغات ہیں۔
لاہور قلعہ کی بیرونی دیواروں کو نیلے پرشیئن ٹائلز سے سجایا گیا ہے۔
اصل دروازے سے مریم زمانی مسجد نظر آتی ہے، جبکہ بڑا عالمگیری دروازہ حضوری باغ سے بادشاہی مسجد تک جاتا ہے۔
مغل فن تعمیر کے ساتھ ساتھ، شہتیروں میں ہندو فن تعمیر کے اثرات بهی نظر آتے ہیں جو کہ ڈیزائن کے اعتبار سے حیوانی پیکر ہیں۔