Dialogue

Vocabulary

Learn New Words FAST with this Lesson’s Vocab Review List

Get this lesson’s key vocab, their translations and pronunciations. Sign up for your Free Lifetime Account Now and get 7 Days of Premium Access including this feature.

Or sign up using Facebook
Already a Member?

Lesson Notes

Unlock In-Depth Explanations & Exclusive Takeaways with Printable Lesson Notes

Unlock Lesson Notes and Transcripts for every single lesson. Sign Up for a Free Lifetime Account and Get 7 Days of Premium Access.

Or sign up using Facebook
Already a Member?

Lesson Transcript

علی حجویری گیارہویں صدی عیسوی کے فارس سے تعلق رکھنے والے ایک صوفی عالم تھے، اور پورے جنوبی ایشیاء میں اسلام کو پھیلانے والے ایک محسن کے طور پر معروف ہیں۔
آج، ان کا مزار لاہور کی سب سے بڑی زیارت گاہ ہے، اور مسلمان زائرین کی ایک بہت عام مقدس زیارت گاہ ہے۔
ایک سنگ مرمر کا کشادہ صحن، ایک مسجد، اور کئی ایک دیگر عمارتیں درگاہ کو گھیرے ہوئے ہیں، جو کہ پاکستان اور پورے مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ ممتاز درگاہوں میں سے ایک ہے۔
ان کی درگاہ کے قریب واقع مسجد ان کی تعمیر کردہ ہے۔
ھجویری کی ولادت تقریباً 990 صدی عیسوی کے قریب، غزنوی دورِ حکومت میں موجودہ افغانستان میں ہوئی۔
آپ نے تصوف کی تعلیم حاصل کی اور ایک مسافر عالم بن گئے اور بحر کیسپین اور دریائے سندھ کے اطراف کئی ایک مقامات کا دورہ کیا اور اپنے وقت کے سینکڑوں صوفیوں سے ملاقات کی، جن کی اکثریت کا شمار اس وقت کے ممتاز صوفیوں میں ہوتا تها۔
اپنے چالیس سے زائد برسوں کے سفر کے دوران ان کی دورہ کی ہوئی جگہوں میں دمشق، شام، بایزید بسطامی کی درگاہ وغیرہ شامل ہیں۔
آپ نے اپنے آپ کو برَ صغیر کے کئی ایک معروف ترین صوفیوں کے اتحاد میں شمار کیا۔
ھجویری نے کئی صوفی مسلمانوں کے لیے ایک اہم حمایت کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں۔
مزید یہ کہ آپ نے فارس اور خراساں کے تصوف کو ہندوستانی برصغیر کے تصوف کے ساتھ جوڑنے کا کام انجام دیا۔
آپ اصولی طور پر سنی حنفی مسلک سے وابستہ تھے، تاہم آپ کے نظریات کو فنا کے صوفی نظریہ سے جوڑا جاتا ہے۔
آپ نے اس عقیدہ کے خلاف اپنی آواز بلند کی جس کے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ خدا انسانی شخصیات کے ساتھ مل سکتا ہے۔
اس کے بجائے، آپ نے فنا کا جلنے کے ساتھ اس طرح موازنہ کیا کہ آگ جیسی خصوصیات حاصل کی جاتی ہے، جبکہ شخص اپنی انفرادی شخصیت کو باقی رکھتا ہے۔

1 Comment

Hide
Please to leave a comment.
😄 😞 😳 😁 😒 😎 😠 😆 😅 😜 😉 😭 😇 😴 😮 😈 ❤️️ 👍
Sorry, please keep your comment under 800 characters. Got a complicated question? Try asking your teacher using My Teacher Messenger.
Sorry, please keep your comment under 800 characters.

UrduPod101.com
Thursday at 6:30 pm
Your comment is awaiting moderation.

علی حجویری گیارہویں صدی عیسوی کے فارس سے تعلق رکھنے والے ایک صوفی عالم تھے، اور پورے جنوبی ایشیاء میں اسلام کو پھیلانے والے ایک محسن کے طور پر معروف ہیں۔
آج، ان کا مزار لاہور کی سب سے بڑی زیارت گاہ ہے، اور مسلمان زائرین کی ایک بہت عام مقدس زیارت گاہ ہے۔
ایک سنگ مرمر کا کشادہ صحن، ایک مسجد، اور کئی ایک دیگر عمارتیں درگاہ کو گھیرے ہوئے ہیں، جو کہ پاکستان اور پورے مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ ممتاز درگاہوں میں سے ایک ہے۔
ان کی درگاہ کے قریب واقع مسجد ان کی تعمیر کردہ ہے۔
ھجویری کی ولادت تقریباً 990 صدی عیسوی کے قریب، غزنوی دورِ حکومت میں موجودہ افغانستان میں ہوئی۔
آپ نے تصوف کی تعلیم حاصل کی اور ایک مسافر عالم بن گئے اور بحر کیسپین اور دریائے سندھ کے اطراف کئی ایک مقامات کا دورہ کیا اور اپنے وقت کے سینکڑوں صوفیوں سے ملاقات کی، جن کی اکثریت کا شمار اس وقت کے ممتاز صوفیوں میں ہوتا تها۔
اپنے چالیس سے زائد برسوں کے سفر کے دوران ان کی دورہ کی ہوئی جگہوں میں دمشق، شام، بایزید بسطامی کی درگاہ وغیرہ شامل ہیں۔
آپ نے اپنے آپ کو برَ صغیر کے کئی ایک معروف ترین صوفیوں کے اتحاد میں شمار کیا۔
ھجویری نے کئی صوفی مسلمانوں کے لیے ایک اہم حمایت کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں۔
مزید یہ کہ آپ نے فارس اور خراساں کے تصوف کو ہندوستانی برصغیر کے تصوف کے ساتھ جوڑنے کا کام انجام دیا۔
آپ اصولی طور پر سنی حنفی مسلک سے وابستہ تھے، تاہم آپ کے نظریات کو فنا کے صوفی نظریہ سے جوڑا جاتا ہے۔
آپ نے اس عقیدہ کے خلاف اپنی آواز بلند کی جس کے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ خدا انسانی شخصیات کے ساتھ مل سکتا ہے۔
اس کے بجائے، آپ نے فنا کا جلنے کے ساتھ اس طرح موازنہ کیا کہ آگ جیسی خصوصیات حاصل کی جاتی ہے، جبکہ شخص اپنی انفرادی شخصیت کو باقی رکھتا ہے۔