Dialogue

Vocabulary

Learn New Words FAST with this Lesson’s Vocab Review List

Get this lesson’s key vocab, their translations and pronunciations. Sign up for your Free Lifetime Account Now and get 7 Days of Premium Access including this feature.

Or sign up using Facebook
Already a Member?

Lesson Notes

Unlock In-Depth Explanations & Exclusive Takeaways with Printable Lesson Notes

Unlock Lesson Notes and Transcripts for every single lesson. Sign Up for a Free Lifetime Account and Get 7 Days of Premium Access.

Or sign up using Facebook
Already a Member?

Lesson Transcript

وزیر خان مسجد پاکستان کے صوبہ پنجاب کے لاہور شہر میں واقع ہے۔
یہ اس سڑک پر واقع ہے جو دہلی دروازہ کو لاہور قلعہ سے ملاتی ہے۔
اس کی تعمیر میں سات سال لگے، جس کا آغاز تقریباً 1634- 1635سن عیسوی میں ہوا۔
اس کی تعمیر کے وقت مغل بادشاہ شاہ جہاں کی حکمرانی تھی۔
حکیم شیخ علیم الدین انصاری نے، جنہیں عمومی طور پر وزیر خان کے نام سے جانا جاتا تھا، اس مسجد کو تعمیر کروایا تھا۔
اس کو "وزیر خان" کا خطاب شاہ جہاں (اس وقت کے شہزاد خرم ) نے عطا کیا تھا، جب اس نے لاہور میں صوبہ پنجاب کے گورنر اور شاہ جہاں کے درباری حکیم کا عہدہ حاصل کیا تھا۔
اس مسجد کے علاوہ اس نے لاہور میں دیگر کئی عمارتیں تعمیر کروائی تھیں۔
یہ مسجد نقش و نگار پر مبنی ٹائلز کے لیے مشہور ہے،اور حقیقت میں بعض لوگ اس کو "لاہور کے رخسار پر ایک تل" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اس میں کچھ بے نظیر قسم کی قاشانی ٹائل کی کاریگری بھی شامل ہے جو کہ مغلیہ دور سے تعلق رکھتی ہے۔
اس مسجد کی خصوصیات میں ایک بغلی راستہ اور پانچ برآمدے شامل ہیں اور یہ اونچائی پر بنی ہوئی ہے۔
مشرقی جانب موجود دروازہ کے ذریعہ اس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس دروازہ کی خصوصیت میں ایک اندرونی مثمنی شکل والا حجرہ ہے۔
ٹائل کی کاریگری کے ساتھ ساتھ فریسکو مصوری بھی دیواروں کی آرائش کا کام کرتی ہے، جو کہ کنکر چونے کی اینٹوں سے بنی ہوئیہے.
مغلیہ دارالحکومت کی اکثر مسجدوں کے برخلاف, وزیر خان مسجد کی زیبائش میں مقامی نقش و نگار بھی شامل ہیں۔
یہ مسجد لاہو کی میناروں والی پہلی مسجد ہے۔
یہ مسجد کئی ایک دکانوں اور مکانات سے گھری ہوئی ہے جو اس سے متصل گلیوں میں موجود ہیں۔
بازار اور وزیرخان کا قائم کردہ حمام خانہ بھی اس مسجد کے تحفظ کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔

1 Comment

Hide
Please to leave a comment.
😄 😞 😳 😁 😒 😎 😠 😆 😅 😜 😉 😭 😇 😴 😮 😈 ❤️️ 👍
Sorry, please keep your comment under 800 characters. Got a complicated question? Try asking your teacher using My Teacher Messenger.
Sorry, please keep your comment under 800 characters.

UrduPod101.com
Thursday at 6:30 pm
Your comment is awaiting moderation.

وزیر خان مسجد پاکستان کے صوبہ پنجاب کے لاہور شہر میں واقع ہے۔
یہ اس سڑک پر واقع ہے جو دہلی دروازہ کو لاہور قلعہ سے ملاتی ہے۔
اس کی تعمیر میں سات سال لگے، جس کا آغاز تقریباً 1634- 1635سن عیسوی میں ہوا۔
اس کی تعمیر کے وقت مغل بادشاہ شاہ جہاں کی حکمرانی تھی۔
حکیم شیخ علیم الدین انصاری نے، جنہیں عمومی طور پر وزیر خان کے نام سے جانا جاتا تھا، اس مسجد کو تعمیر کروایا تھا۔
اس کو "وزیر خان" کا خطاب شاہ جہاں (اس وقت کے شہزاد خرم ) نے عطا کیا تھا، جب اس نے لاہور میں صوبہ پنجاب کے گورنر اور شاہ جہاں کے درباری حکیم کا عہدہ حاصل کیا تھا۔
اس مسجد کے علاوہ اس نے لاہور میں دیگر کئی عمارتیں تعمیر کروائی تھیں۔
یہ مسجد نقش و نگار پر مبنی ٹائلز کے لیے مشہور ہے،اور حقیقت میں بعض لوگ اس کو "لاہور کے رخسار پر ایک تل" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اس میں کچھ بے نظیر قسم کی قاشانی ٹائل کی کاریگری بھی شامل ہے جو کہ مغلیہ دور سے تعلق رکھتی ہے۔
اس مسجد کی خصوصیات میں ایک بغلی راستہ اور پانچ برآمدے شامل ہیں اور یہ اونچائی پر بنی ہوئی ہے۔
مشرقی جانب موجود دروازہ کے ذریعہ اس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس دروازہ کی خصوصیت میں ایک اندرونی مثمنی شکل والا حجرہ ہے۔
ٹائل کی کاریگری کے ساتھ ساتھ فریسکو مصوری بھی دیواروں کی آرائش کا کام کرتی ہے، جو کہ کنکر چونے کی اینٹوں سے بنی ہوئیہے.
مغلیہ دارالحکومت کی اکثر مسجدوں کے برخلاف, وزیر خان مسجد کی زیبائش میں مقامی نقش و نگار بھی شامل ہیں۔
یہ مسجد لاہو کی میناروں والی پہلی مسجد ہے۔
یہ مسجد کئی ایک دکانوں اور مکانات سے گھری ہوئی ہے جو اس سے متصل گلیوں میں موجود ہیں۔
بازار اور وزیرخان کا قائم کردہ حمام خانہ بھی اس مسجد کے تحفظ کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔